سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے فارم پر کرکے بھیج دیں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

کیا بیوی کی غیر موجودگی یا لاعلمی میں طلاق واقع ہوتی ہے؟

|

کتاب: الطلاق

|

سائل: طاہرہ

سوال

"Agar mere shohar ny mujhy hamal ma divorce di ha to kaya wo hamal kaya doran mujhsy dubara rujoo kar skta ha" Mere shohar ny mujhy koi talaq ni thi di magar talaq k documents ma likha tha k mne phli or dusri talaq dy di ha or ab ma تیسری talaq dy raha hu

جواب

 الحمدللہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الامین امابعد:

طلاق“ دینے کا حق شوہر کا ایک ”بنیادی حق“ہے، حدیث میں ہے ”إنما الطلاق لمن أخذ بالساق“ (ابن ماجہ) اگر شوہر یہ کہتا ہے کہ میں آپ کو پہلے ہی دو طلاقیں دے چکا ہوں اور یہ تیسری طلاق ہے، تو اس صورت میں عورت پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ واضح رہے کہ طلاق کے واقع ہونے کے لیے عورت کو اس کا علم ہونا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ شوہر کا طلاق دینا اور اس کا اعتراف ہی کافی ہوتا ہے۔پوچھی گئی صورت میں آپ کو طلاقِ مغلّظہ واقع ہو چکی ہے، اور اب شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ۔ وضع حمل کے بعد آپ کی عدت مکمل ہو جائے گی۔

حوالہ جات:

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ(البقرۃ 230(
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ سَيِّدِي زَوَّجَنِي أَمَتَهُ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا، قَالَ: فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يُزَوِّجُ عَبْدَهُ أَمَتَهُ، ثُمَّ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا، إِنَّمَا الطَّلَاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ

(سنن ابن ماجه، دار إحياء الكتب العربية :باب طلاقالعبد،ج،1ص،(672

(ﻭﻣﺒﺪﺃ اﻟﻌﺪﺓ ﺑﻌﺪ اﻟﻄﻼﻕ ﻭ) ﺑﻌﺪ (اﻟﻤﻮﺕ) ﻋﻠﻰ اﻟﻔﻮﺭ (ﻭﺗﻨﻘﻀﻲ اﻟﻌﺪﺓ ﻭﺇﻥ ﺟﻬﻠﺖ) اﻟﻤﺮﺃﺓ (ﺑﻬﻤﺎ) ﺃﻱ ﺑﺎﻟﻄﻼﻕ ﻭاﻟﻤﻮﺕ ﻷﻧﻬﺎ ﺃﺟﻞ ﻓﻼ ﻳﺸﺘﺮﻁ اﻟﻌﻠﻢ۔( الدرالمختار: (باب العدۃ، 504/3، 505، ط: سعید)
ﻷﻥ اﻟﺰﻭﺝ ﻳﻨﻔﺮﺩ ﺑﺈﻳﻘﺎﻉ اﻟﻄﻼﻕ اﻟﺜﻼﺙ، ﻭﻻ ﻳﺘﻮﻗﻒ ﺫﻟﻚ ﻋﻠﻰ ﻋﻠﻢ اﻟﻤﺮﺃة. المحیط البرھاني: (الفصل السابع في الخصومات، 50/4، ط: دار الكتب العلمية)
فإن اختلفا في وجود الشرط (و في الرد) أي اصلاً أو تحققاً …. أي اختلفا في وجود اصل التعليق بالشرط أو في تحقق الشرط بعد التعليق فالقول له مع اليمين.  (4/ 601)
وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. سواء كانت حاملا وقت وجوب العدة أو حبلت بعد الوجوب كذا في فتاوى قاضي خان.( الفتاوى الهندية (1/ 528)
واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: مفتی ناصر سیماب

|

مفتیان کرام: مولانا ڈاکٹر حافظ حبیب الرحمٰن،مفتی وصی الرحمٰن

دارالافتاء مرکز تعلیم وتحقیق اسلام آباد