الحمدللہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الامین امابعد
“Workers’ Profit Participation Fund” ملازمین کا ایک قانونی حق ہے، اور کمپنی اس فنڈ کی ادائیگی کی قانونی طور پر پابند ہے۔ البتہ اس مسئلے میں دو صورتیں ممکن ہیں، جن کی وضاحت درج ذیل ہے:
پہلی صورت: اگر ملازمین کو یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ جب چاہیں فنڈ کی رقم نکلوا سکتے ہیں، تو ایسی صورت میں یہ رقم ملازمین کی ملکیت شمار ہوگی۔ لہٰذا 2.5%کا منافع حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں ملازم اس فنڈ کا مالک بن جاتا ہے، لہٰذا اس رقم کی حیثیت قرض کی ہوگی، اور قرض پر منافع لینا شرعاً جائز نہیں۔
دوسری صورت: اگر ملازمین کو دورانِ ملازمت یہ رقم لینے کا اختیار حاصل نہ ہو، اور یہ مکمل طور پر کمپنی کے قبضے اور تصرف میں ہو، تو ایسی صورت میں کمپنی کی جانب سے جو منافع یا اضافہ دیا جا رہا ہے، اس کا لینا جائز ہوگا۔ جبکہ اس صورت میں، ملازم نہ اس فنڈ کا مالک ہوتا ہے اور نہ ہی اسے اس پر کسی قسم کا تصرف یا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ فنڈ کمپنی کی جانب سے ملازمین کے لیے تبرع (رضاکارانہ عطیہ) اور انعام کے طور پر شمار ہوگا، اور ایسی صورت میں ملازمین کے لیے اس کا لینا شرعاً جائز ہے۔