سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے فارم پر کرکے بھیج دیں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

ورکرز پرافٹ پارٹیسیپیشن فنڈ کا شرعی حکم

|

کتاب: جدید مسائل

|

سائل: ماجد لطیف بھٹی :اسلام آباد

سوال

“Worker’s Profit Participation Fund” کا شرعی حکم

جواب

الحمدللہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الامین امابعد

“Workers’ Profit Participation Fund” ملازمین کا ایک قانونی حق ہے، اور کمپنی اس فنڈ کی ادائیگی کی قانونی طور پر پابند ہے۔ البتہ اس مسئلے میں دو صورتیں ممکن ہیں، جن کی وضاحت درج ذیل ہے:

پہلی صورت: اگر ملازمین کو یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ جب چاہیں فنڈ کی رقم نکلوا سکتے ہیں، تو ایسی صورت میں یہ رقم ملازمین کی ملکیت شمار ہوگی۔ لہٰذا 2.5%کا منافع حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس  صورت میں ملازم اس فنڈ کا مالک بن جاتا ہے، لہٰذا اس رقم کی حیثیت قرض کی ہوگی، اور قرض پر منافع لینا شرعاً جائز نہیں۔

دوسری صورت: اگر ملازمین کو دورانِ ملازمت یہ رقم لینے کا اختیار حاصل نہ ہو، اور یہ مکمل طور پر کمپنی کے قبضے اور تصرف میں ہو، تو ایسی صورت میں کمپنی کی جانب سے جو منافع یا اضافہ دیا جا رہا ہے، اس کا لینا جائز ہوگا۔ جبکہ اس  صورت میں، ملازم نہ اس فنڈ کا مالک ہوتا ہے اور نہ ہی اسے اس پر کسی قسم کا تصرف یا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ فنڈ کمپنی کی جانب سے ملازمین کے لیے تبرع (رضاکارانہ عطیہ) اور انعام کے طور پر شمار ہوگا، اور ایسی صورت میں ملازمین کے لیے اس کا لینا شرعاً جائز ہے۔

حوالہ جات

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  تَاْكُلُوا  الرِّبٰۤوا  اَضْعَافًا  مُّضٰعَفَةً۪-  وَ  اتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تُفْلِحُوْنَ:آل عمران(130)
عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ” كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا((أخرجه البيهقي في الكبرى » (5/ 571) برقم (10933)، ط. دار الكتب العلمية، بيروت، الطبعة: الثالثة، 1424 هـ = 2003م)
اذا كان فعل الإمام مبنيا على المصلحة فيما يتعلق بالأمور العامة لم ينفذ أمره شرعا إلا إذا وافقه فإن خالفه لم ينفذ۔(وفی السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي (ج 6 / ص 166)
واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: مفتی ناصر سیماب

|

مفتیان کرام: مولانا ڈاکٹر حافظ حبیب الرحمٰن،مفتی وصی الرحمٰن

دارالافتاء مرکز تعلیم وتحقیق اسلام آباد