الحمدللہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الامین امابعد:
طلاق“ دینے کا حق شوہر کا ایک ”بنیادی حق“ہے، حدیث میں ہے ”إنما الطلاق لمن أخذ بالساق“ (ابن ماجہ) اگر شوہر یہ کہتا ہے کہ میں آپ کو پہلے ہی دو طلاقیں دے چکا ہوں اور یہ تیسری طلاق ہے، تو اس صورت میں عورت پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ واضح رہے کہ طلاق کے واقع ہونے کے لیے عورت کو اس کا علم ہونا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ شوہر کا طلاق دینا اور اس کا اعتراف ہی کافی ہوتا ہے۔پوچھی گئی صورت میں آپ کو طلاقِ مغلّظہ واقع ہو چکی ہے، اور اب شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ۔ وضع حمل کے بعد آپ کی عدت مکمل ہو جائے گی۔
حوالہ جات:
فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ(البقرۃ 230(
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ سَيِّدِي زَوَّجَنِي أَمَتَهُ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا، قَالَ: فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يُزَوِّجُ عَبْدَهُ أَمَتَهُ، ثُمَّ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا، إِنَّمَا الطَّلَاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ
(سنن ابن ماجه، دار إحياء الكتب العربية :باب طلاقالعبد،ج،1ص،(672