الحمد اللہ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علٰی رسولہ الامین اما بعد:
طلاق واقع ہونےکےلیے ضروری ہے کہ طلاق دینے والا یا تو طلاق دیتے وقت صریح الفاظ استعمال کرے یا طلاق کی نیت یا مذاکرہ طلاق کے دوران ایسا لفظ استعمال کرے جو معنی کے لحاظ سے طلاق پر دلالت کرتا ہو۔ اگر طلاق دینے والے نے ایسے الفاظ استعمال کیے ہوں جن میں نہ صراحتا طلاق کا معنی پایا جاتا ہو اور نہ وہ الفاظ معنی کے لحاظ سے طلاق پر دلالت کرتے ہوں تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔
صورت مسؤلہ میں جب شوہرنے غصہ کی حالت میں اپنی ساس کے سامنے تین پتھر پھینکے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی کیونکہ پتھر پھینکنا نہ تو صراحتا لفظ طلاق پر دلالت کرتا ہے اور نہ اس میں طلاق کا معنی پایا جاتا ہے ، اس لئے خاوند کے پتھر پھینکنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔
جیساکہ فتاوی شامی میں ہے۔
فلا يقع بإلقاء ثلاثة أحجار إليها أو بأمرها بحلق شعرها وإن اعتقد الإلقاء والحلق طلاقا كما قدمناه لأن ركن الطلاق اللفظ أو ما يقوم مقامه مما ذكر كما مر
رد المحتار على الدر المختار،ابن عابدين، الحنفي (المتوفى: 1252هـ)، ج،۳ ص،۲۴۷
واللہ اعلم باالصواب