سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے فارم پر کرکے بھیج دیں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

فون پے اپنی بیوی کو طلاق کے الفاظ کہنا

|

کتاب: کتاب الطلاق

|

سائل: نعمت اللہ

سوال

ایک آدمی اکبر محمد اپنی بیوی زینب سے سعودی عرب سے فون پہ بات کرتا رہتا تھا ایک بار دونوں کے درمیان باتوں باتوں میں جھگڑا ہوا ۔تو بیوی نے اکبر محمد سے کہا کہ مجھے طلاق دے دو شوہر نے کہا تجھے طلاق بیوی نے کہا کہ دوبارہ بولو شوہر نے دوبارہ کہا تجھے طلاق بیوی نے کہا تیسری مرتبہ بولو شوہر نے کہا تجھے طلاق شوہر کہتا ہے کہ تقریبا تین یا چار مرتبہ میں نے طلاق کا لفظ کہا ہے۔اور طلاق کے ان الفاظ کو سننے کیلئے ایک گواہ مرد بھی ہے۔بیوی حاملہ بھی ہےاور اس بیوی سے شوہر کے ایک بیٹا اور ایک بیٹی پہلے سے موجود ہیں۔اب مسئلہ یہ ہے کہ بیوی کو کتنے طلاق ہوئے ہیں؟شوہر کو رجوع کا حق ہے یا نہیں ؟اگر ہے تو طریقہ کیا ہے کیونکہ شوہر مسافر ہے اگر نہیں ہے اور طلاق مغلظ واقع ہوا ہے توشوہر کے ذمے پورا مہر ہے یا نہیں؟اور بیوی عدت کہا گزارے گی باپ کے گھر یا شوہر سکنیٰ فراہم کرے گااگر سکنیٰ شوہر پر لازم ہے تو یہ صرف ولادت تک ہے یا اگر رضاعت تک جب بیوی خود بچے کو دودھ دیتی ہو؟بیوی سے شوہر کی جو اولاد ہے ان کا کیا ہوگا یہ شوہر کے پاس ہوگی یا بیوی کے پاس اور جو جنین ہے اس کا کیا حکم ہےکیا ولادت کے بعد بیوی پر رضاعت لازم ہے یا بیوی اس بچے کو شوہر کے گھر بھیج دے گی؟ امید ہے کہ جواب دلائل کے ساتھ ہوگا کیونکہ یہاں کچھ علماء نے ایک طلاق واقع ہونے کا فتوی دیا ہے اور ظاہری الفاظ سے تو لگتا ہے کہ تین طلاق واقع ہوئے ہیں۔

جواب

جواب : الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الامین وبعد

آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب حسب ذیل ہیں۔
(۱)صورت مسئولہ میں اگر اکبر محمد نے بیوی کے مطالبے پر تین دفعہ تین طلاقیں دیدی ہیں تواس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں یعنی یہ طلاق مغلظہ ہے۔،اب وہ شوہر پر حرام ہوگئی اور شوہر کا رجوع کا حق ختم ہو گیا ۔ جیسا کہ قرآن مقدس کا حکم ہے:

الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ۔۔۔إِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ(البقرہ:۲۲۹۔۲۳۰)

واضح رہے کہ صورت مسئولہ میں تین طلاق واقع ہونے کا حکم اس صورت میں ہے جب اکبر محمد تین طلاق کا اقرار کرتا ہو یا اس پر شرعی شہادت قائم ہو۔ اور اگر وہ منکر ہے اور اس کے تین طلاق دینے پر شرعی شہادت بھی نہیں ہے تو قضاءً طلاق کا حکم نہیں ہوگا
(۲)چوںکہ بیوی حمل سے ہے اس لیے اس کی عدت بچے کی پیدائش پرختم ہو جائے گی۔عدت کا خرچہ اور رہائش شوہر کے ذمہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾

[الطلاق ۶۵: ۶]

(اگر وہ [مطلّقہ عورتیں] حاملہ ہوں تو ان کا خرچ برابر دیتے رہو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کر لیں)۔

(۳) شوہر کےذمہ مکمل مہر کی ادائیگی ہو گی۔
(۴) اس امر میں امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ بچے کی پرورش (تربیت اور رضاعت)کی مستحق سب سے پہلے اس کی ماں ہے۔ دوسرے رشتہ داروں کا درجہ اس کے بعد ہے۔ کہ حضرت عمر ؓنے اپنی زوجہ امِ عاصم کو طلاق دے دی۔ عاصم ان کے پاس تھے ،حضرت عمر ان کے پاس آئے اور بچے کو لینا چاہا۔اسی کشمکش میں بچہ رو پڑا۔حضرت عمرؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا:

مسحها وحجرها وريحها خير له منك، حتى يشبّ الصبي فيختار لنفس

الدراية في تخريج أحاديث الهداية،جلد۲،صفحہ ۸۱)

(ماں کا دلاسہ، اس کی گود اور اس کی بو بچے کے لیے تم سے زیادہ اچھی ہے، یہاں تک کہ بچہ بڑا ہو جائے اور اپنے لیے خود انتخاب کرے)۔

(۵)بچہ جب تک ماں کی پرورش میں ہو گا اس کا خرچہ باپ کے ذمہ ہو گا ۔ ماں اگر باپ سے جدا ہو اور بچے کی حضانت کی کفیل ہو تو اس کا نفقہ باپ کے ذمہ لازم ہوتا ہے بشرطےکہ بچے کا کوئی مال نہ ہو اور نہ ہی ماں اپنی خوشی سے محض ثواب کی خاطر یہ ذمہ داری بجا لا رہی ہو۔

کتبہ: مفتی وصی الرحمٰن

|

مفتیان کرام: مفتی وصی الرحمٰن ،مولانا ڈاکٹر حبیب الرحمٰن

دارالافتاء مرکز تعلیم وتحقیق اسلام آباد