جواب : الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الامین وبعد
آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب حسب ذیل ہیں۔
(۱)صورت مسئولہ میں اگر اکبر محمد نے بیوی کے مطالبے پر تین دفعہ تین طلاقیں دیدی ہیں تواس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں یعنی یہ طلاق مغلظہ ہے۔،اب وہ شوہر پر حرام ہوگئی اور شوہر کا رجوع کا حق ختم ہو گیا ۔ جیسا کہ قرآن مقدس کا حکم ہے:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ۔۔۔إِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ(البقرہ:۲۲۹۔۲۳۰)
واضح رہے کہ صورت مسئولہ میں تین طلاق واقع ہونے کا حکم اس صورت میں ہے جب اکبر محمد تین طلاق کا اقرار کرتا ہو یا اس پر شرعی شہادت قائم ہو۔ اور اگر وہ منکر ہے اور اس کے تین طلاق دینے پر شرعی شہادت بھی نہیں ہے تو قضاءً طلاق کا حکم نہیں ہوگا
(۲)چوںکہ بیوی حمل سے ہے اس لیے اس کی عدت بچے کی پیدائش پرختم ہو جائے گی۔عدت کا خرچہ اور رہائش شوہر کے ذمہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾
[الطلاق ۶۵: ۶]
(اگر وہ [مطلّقہ عورتیں] حاملہ ہوں تو ان کا خرچ برابر دیتے رہو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کر لیں)۔
(۳) شوہر کےذمہ مکمل مہر کی ادائیگی ہو گی۔
(۴) اس امر میں امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ بچے کی پرورش (تربیت اور رضاعت)کی مستحق سب سے پہلے اس کی ماں ہے۔ دوسرے رشتہ داروں کا درجہ اس کے بعد ہے۔ کہ حضرت عمر ؓنے اپنی زوجہ امِ عاصم کو طلاق دے دی۔ عاصم ان کے پاس تھے ،حضرت عمر ان کے پاس آئے اور بچے کو لینا چاہا۔اسی کشمکش میں بچہ رو پڑا۔حضرت عمرؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا:
مسحها وحجرها وريحها خير له منك، حتى يشبّ الصبي فيختار لنفس
الدراية في تخريج أحاديث الهداية،جلد۲،صفحہ ۸۱)
(ماں کا دلاسہ، اس کی گود اور اس کی بو بچے کے لیے تم سے زیادہ اچھی ہے، یہاں تک کہ بچہ بڑا ہو جائے اور اپنے لیے خود انتخاب کرے)۔
(۵)بچہ جب تک ماں کی پرورش میں ہو گا اس کا خرچہ باپ کے ذمہ ہو گا ۔ ماں اگر باپ سے جدا ہو اور بچے کی حضانت کی کفیل ہو تو اس کا نفقہ باپ کے ذمہ لازم ہوتا ہے بشرطےکہ بچے کا کوئی مال نہ ہو اور نہ ہی ماں اپنی خوشی سے محض ثواب کی خاطر یہ ذمہ داری بجا لا رہی ہو۔