جواب: الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الامین وبعد
آپ کے سوال کا جواب بالترتیب درجہ ذیل ہے۔
(1):زکواۃ کی رقم کسی بھی بینک میں جمع کرنا درست نہیں ،بلکہ یہ غریب اور مستحق کا حق ہے اس لئے کسی مستحق کو اس کا مالک بنانا ضروری ہے،
فتاوٰی شامی میں ہے:
ھی تملیک جزء مال عینہ الشارع من مسلم فقیرغیرھاشمی ولامولاہ مع قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ ۔
۔(حاشیۃ ابن عابدین، کتاب الزکاۃ ج 3ص206)۔
صورت مسئولہ میں زکواۃ کی رقم اسلامی بینک میں رکھنے سے زکواۃ ادانہیں ہوگی کیونکہ وہ رقم اب بھی آ پ کی ملکیت میں ہے ۔البتہ تاخیر ادائے زکواۃ کی وجہ سے گناہ ہوگا۔جیسا کہ فتح القدیر میں ہے:
فتکون الزکاۃ فریضۃ وفوریتھا واجبۃ فیلزم بتاخیرہ الاثم کماصرح بہ الکرخی والحاکم الشھید فی المنتقی۔(
(فتح القدیر ج2ص166)
(2):PLS کا مطلب ہے Profit and loss sharing) ,)نفع نقصان کی شراکت کا کھاتہ ۔اس اکاونٹ ے بارے میں مفتی تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ”فی الحال ان غیر سودی کاونٹروں “کا کاروبار جائز اور ناکائز معاملات سے مخلوط ہے ،اور اس کا کچھ حصہ مشتبہ ہے ،لہذا جب تک ان خامیوں کی اصلاح نہ ہو،اس سے حاصل ہونے والے منافع کو کلی طور پر حلال نہیں کہاجاسکتا،اور مسلمانوں کو ایسے کاروبار میں حصہ لینادرست نہیں۔ (2)پی ایل ایس (PLS)اکاونٹ کی حقیقت ص24)
لہذا پی ایل ایس اکاونٹ میں رقم جمع کرنا درست نہیں ہے ،اور بینک اس پر جو منافع دیتاہے وہ بھی درست نہ ہوا اور اس رقم سے بینک اپنی خدمات کیلئے جو کٹوتی کرتے ہیں وہ بھی درست نہیں ہے ۔۔