جواب:الحمد للہ رب العٰلمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الامین اما بعد :
اللہ کے سوا کسی بھی شخص کے بارے میں خواہ کوئی نبی ہو یا ولی ہو، مشکل کشا،حاجت روا کا عقیدہ رکھنا شرک ہے،جو شخص ایسا عقیدہ رکھے گاجاں بوجھ کر اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔
یہاں چند اصولی باتیں یاد رکھیں:
۔ اگر آپ پہلے سےصاحب نصاب ہیں توہر چیز کیلئے الگ سے سال گزرنا شرط نہیں ہے اور آپ کا سال جس تاریخ کو پوراہوتاہے اس وقت آپ کل مال کی زکوٰۃ ادا کریں گے جس میں پلاٹ کی زکاۃ بھی شامل ہے،وہ پلاٹ جس کوآپ نے تجارت کی نیت سے خریداہیں۔
2۔یادرکھیں کہ زکاۃ سال پوراہونے سے پہلے بھی اداکرسکتے ہیں ،کیونکہ نبی اکرم ﷺ حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے پہلے اڈوانس میں زکوٰۃ جنگی مہمات کیلئے لے لیا کرتے تھے۔
عَنْ عَلِيِّ بنِ أ بِي طَالِبٍ،أَنَّ الْعَبَّاسَ،«سَأَل النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ و َسَلَّمَ فِي تَعْجِيل صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ،فَرَخَّصَ لَهُ فِيذَلِكَ»
»سنن ابن ماجہ ،باب تعجیل الزکاۃ،ج ۱ ص۵۷۲
لَنَامَارُوِيَ«أَنَّ رَسُول اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- اسْتَسْلَفَ منْ الْعَبَّاسِ زكَاةَسَنَتَيْنِ»وَأَدْنَى درَجَاتِ فِعْلِ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَوَازُ.)کاسانی ،بدائع الصنائع،ج ۲ ص۵۱).)کاسانی ،بدائع الصنائع،ج ۲ ص۵۱)
.)کاسانی ،بدائع الصنائع،ج ۲ ص۵۱)
(ولوعجل ذونصاب) زكاته (لسنين أولنصب صح)لوجودالسبب،
ابن عابدين حاشية ابن عابدين جزء ۱ ص۱۳۱
۔ زکاۃ کی ادائیگی کے لیے رمضان کاانتظار نہیں کرناچاہیے بلکہ لوگوں کی حاجات اور ضروریات کاخیال کرناچاہیے اگر کوئی بندہ رمضان کے علاوہ دنوں میں زیادہ حاجت مندہوتو اس وقت اس کی حاجت پوری کرنے کے لیے زکاۃ اداکرنازیادہ اجروثواب کا باعث ہے رمضان کانتظارکرنے سے ۔
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواوَعَمِلُواالصَّالِحَاتِ وَأَقَامُواالصَّلَاۃ وَآتَوُاالزَّكَاةَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَرَبِّهِمْ وَلَاخَوْف عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ
البقرۃ277
( وافتراضها عمري ) قال في البدائع وعليه عامة المشايخ ففي أي وقت أدى يكون مؤديا للواجب
ابن عابدین ، حاشیۃ ابن عابدین ،کتاب الزکاۃ ،ج ۳ ص ۲۲۷،دارالمعرفۃ بیروت لبنان)۔
لہذا صورت مسئولہ میں آپ رمضان میں زکوۃ بھی زکوٰۃ ادا کرسکتے ہیں لیکن اگر کوئی بندہ رمضان سے پہلے زیادہ حاجت مندہوتو اس وقت اس کی حاجت زکوٰۃ کی رقم سے پوری کرنا ذیادہ باعث اجروثواب ہے ،اور رمضان میں زکوٰۃ کی رقم سے راشن خرید کر لوگوں میں تقسیم کرنا جائزہے