الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الامین وبعد:
آپ کے سوال کا جواب حسب ترتیب درج ذیل ہے۔
1۔ آپ کی تحریر سےمعلوم ہوتاہے کہ آپ کے وکیل نے آپ سے طلاق نامہ کا ذکرکیاتھا اوریہ بھی کہاتھا کہ ڈرانے کےلیے طلاق نامہ لکھناہے، بقول اپ کے وکیل نے آپ کو یہ نہیں بتایاکہ اس میں تین طلاق لکھیں ہیں اور آپ کو بھی اس کا علم نہیں تھا لہذا اگر واقعی لاعلمی میں آپ نے دستخط کیے ہیں تو تین طلاق واقع نہیں ہوں گی البتہ ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گئی کیونکہ آپ کو اتناعلم تھا کہ یہ طلا ق نامہ ہی ہے فتاویٰ شامی میں ہے
: كُلُّ كِتَابٍ لَمْ يَكْتُبْهُ بِخَطِّهِ وَلَمْ يُمْلِهِ بِنَفْسِهِ لَا يَقَعُ الطَّلَاقُ مَا لَمْ يُقِرَّ أَنَّهُ كِتَابُهُ
رد المحتار على الدر المختار:ج،3:ص،247
نجم الفتاویٰ میں ہے: برتقدیر صحت واقعہ جب شوہر نے تحریر نہیں لکھی اور نہ ہی لکھنے کا حکم دیا تو طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ طلاق بالکتابت میں اقرار ضروری ہےاور دستخط بھی اقرار کی ایک صورت ہے لیکن اس کیلئے یہ ضروری ہے کہ دستخط کرنے والے کو تحریر میں طلاق موجود ہونے کا علم ہو۔ تویہاں پر اس کو یہ علم ہے کہ یہ طلاق نامہ ہے تو اس وجہ سے ایک طلاق واقع ہوگئی ہے۔
نجم الفتاوی جلد 6 – مفتی سید نجم الحسن امروھی صاحب جلد،6:ص،166مکتبہ جبریل
دیگرعلماء نے بھی اس طرح کے مسئلہ میں یہی فتوی دیاہے :
اگر مذکورہ طلاق نامہ سائل نے نہیں بنایا اور نہ ہی پڑھا تھا، لیکن اسے یہ معلوم تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے، لیکن اس میں موجود طلاقوں کی تعداد پتہ نہیں تھی تو اس پر دستخط کرنے کی وجہ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق واقع ہوگئی ہے، عدت میں رجوع کرنے کی وجہ سے نکاح برقرار رہے گا، البتہ آئندہ کے لیے دو طلاقوں کا حق باقی رہے گا۔
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
یہ بات ذہن میں رہے کہ اگر آپ کو اس بات کا علم تھا کہ اس طلاق نامہ میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں تو اس صورت میں تین طلاق واقع ہوجائیں گی اور آپ کے لیے نہ رجوع جائز ہے اور نہ ہی بغیر شرعی حلالہ کے دوبارہ نکاح جائز گا۔
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ(البقرۃ،230)
یہ سوال کہ کیااب آپ اس عورت سےدوبارہ نکاح کرسکتے ہیں یانہیں ،تواس کا جواب یہ ہے کہ بقول آپ کےچونکہ آپ نے طلاق نامہ پر دستط کرنے کےبعد 45 دن بعد رجوع کیاتھاتو بظاہریہی لگ رہاہے کہ عورت کی عدت مکمل نہیں ہوئی تھی تو آپ کا رجوع صحیح ہوگا ۔رجوع کے لیے
شرط یہ ہے کہ رجوع دوران عدت ہو خواہ عورت راضی ہو یا نہ ہو۔۔ اگر عدت گزرنے کے بعد رجوع کیا تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور طلاق ہوجاے گی۔
یادرہے کہ آپ کی تحریر سے یہ بھی معلوم ہوتاہے آپ نے ایک طلاق 2020 میں زبانی دی تھی اور ایک طلاق نامہ پر دستخط کرنے کی وجہ سے واقع ہوگئی ہے تو گویا آپ اپنی بیوی کو دوطلاق رجعی دے چکے ہیں اب آپ کے پاس صرف ایک طلاق کاحق باقی رہ گیاہے،اگر آپ نے دوبارہ طلاق دینے کی غلطی کی تو اس صورت میں آپ کو رجوع کا حق نہیں ہوگا۔