سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے فارم پر کرکے بھیج دیں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

کیا غصے، دباؤ لاعلمی اور قانونی مجبوری کے تحت دی گئی طلاق ثلاثہ شرعاً نافذ ہو جاتی ہے؟

|

کتاب: الطلاق

|

سائل: رضوان احمد

سوال

محترم جناب مفتی صاحب: طلاق کے حوالے سے کچھ وضاحت درکار ہے برائے مہربانی قرآن ،وسنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔ دین اور دنیا کے قانون کی لا علمی کی وجہ سے غلط فیصلے اور میری سمجھ سے باہر ہیں کہ کیا غلط ہے یا کیا نہیں۔ 1۔ اب تک طلاق کے بارے میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ ایک وقت میں تین طلاقیں دینا ایک ہی طلاق شمار ہوتی ہے اس کے لئے مجھے طلاق کا کوئی اور معلومات نہیں تھی اور مجھے طلاق کی اقسام کا پتہ تھا اور نہ ہی طلاق کے بعد عدّت کا علم۔ 2۔ دوسری بات یہ کہ مجھے ملک کے اس قانون کا بھی علم نہ تھا جس کے تحت مرد اپنی پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی نہیں کر سکتا اور خلاف ورزی کرنے پر شوہر کو دو(2) سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔ 3۔ لا علمی کی وجوہات اور شوہر غصہ کی حالت میں ایک بار اپنی بیوی کو ایک مرتبہ طلاق (زبانی) دے چکا ہوں اور اس واقعہ کو تقریباً دو(2) سال ہو چکے ہیں اور اس وقت تین دن کے بعد میں نے رجوع کر لیا۔ 4۔ سال 2020ء میں جھگڑا ہوا اور میری بیوی گھر چھوڑ کو میکے چلی گئی بچوں سمیت، میں نے اپنے گھر والوں کے دباؤ اور بدلہ لینے کے لئے دوسری شادی کرلی میری دوسری شادی کے کچھ ہی دنوں بعد مجھے میری بیوی کی طرف سے کورٹ کا نوٹس وصول ہوا۔ 5۔ میں پریشانی کی حالت میں اپنے وکیل کی طرف گیا وکیل نے مجھے دوسری شادی کے قانون سے آگاہ کیا تو میرے پاوں تلے سےزمین نکل گئی۔وکیل نے مشورہ دیا کہ تم ڈرانے کے لئے طلاق دیےدو، اور یقین دلایا کہ 90 دن کے دوران ہم کبھی بھی طلاق لے سکتے ہیں میں نے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے طلاق نامہ پر دستخط کئے اور طلاق نامہ پڑھنے کی زحمت نہ کی اور دستخط کے 45 دن بعد میں نےرجوع کرلیاتھا۔ 6۔طلاق دینے کے ایک ماہ بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہ تو طلاق ثلاثہ تھی اور طلاق ثلاثہ میں رجوع کی گنجائش نہیں ہوتی۔ 7۔ چونکہ اس ملک میں اسلامی قانون رائج نہیں ہے اور اسی انگریز کے قانون کی وجہ سے مجھے طلاق کا قدم نہ چاہتے ہوئے اٹھانا پڑا، یقین کریں میرا طلاق دینے کی کوئی نیت نہیں تھی ، کیا ان حالات میں ہم دو بارہ نکاح کر سکتے ہیں؟؟

جواب

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الامین وبعد:

آپ کے سوال کا جواب حسب ترتیب درج ذیل ہے۔
1۔ آپ کی تحریر سےمعلوم ہوتاہے کہ آپ کے وکیل نے آپ سے طلاق نامہ کا ذکرکیاتھا اوریہ بھی کہاتھا کہ ڈرانے کےلیے طلاق نامہ لکھناہے، بقول اپ کے وکیل نے آپ کو یہ نہیں بتایاکہ اس میں تین طلاق لکھیں ہیں اور آپ کو بھی اس کا علم نہیں تھا لہذا اگر واقعی لاعلمی میں آپ نے دستخط کیے ہیں تو تین طلاق واقع نہیں ہوں گی البتہ ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گئی کیونکہ آپ کو اتناعلم تھا کہ یہ طلا ق نامہ ہی ہے فتاویٰ شامی میں ہے

: كُلُّ كِتَابٍ لَمْ يَكْتُبْهُ بِخَطِّهِ وَلَمْ يُمْلِهِ بِنَفْسِهِ لَا يَقَعُ الطَّلَاقُ مَا لَمْ يُقِرَّ أَنَّهُ كِتَابُهُ

رد المحتار على الدر المختار:ج،3:ص،247

نجم الفتاویٰ میں ہے: برتقدیر صحت واقعہ جب شوہر نے تحریر نہیں لکھی اور نہ ہی لکھنے کا حکم دیا تو طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ طلاق بالکتابت میں اقرار ضروری ہےاور دستخط بھی اقرار کی ایک صورت ہے لیکن اس کیلئے یہ ضروری ہے کہ دستخط کرنے والے کو تحریر میں طلاق موجود ہونے کا علم ہو۔ تویہاں پر اس کو یہ علم ہے کہ یہ طلاق نامہ ہے تو اس وجہ سے ایک طلاق واقع ہوگئی ہے۔

نجم الفتاوی جلد 6 – مفتی سید نجم الحسن امروھی صاحب جلد،6:ص،166مکتبہ جبریل

دیگرعلماء نے بھی اس طرح کے مسئلہ میں یہی فتوی دیاہے :
اگر مذکورہ طلاق نامہ سائل نے نہیں بنایا اور نہ ہی پڑھا تھا، لیکن اسے یہ معلوم تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے، لیکن اس میں موجود طلاقوں کی تعداد پتہ نہیں تھی تو اس پر دستخط کرنے کی وجہ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق واقع ہوگئی ہے، عدت میں رجوع کرنے کی وجہ سے نکاح برقرار رہے گا، البتہ آئندہ کے لیے دو طلاقوں کا حق باقی رہے گا۔

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

یہ بات ذہن میں رہے کہ اگر آپ کو اس بات کا علم تھا کہ اس طلاق نامہ میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں تو اس صورت میں تین طلاق واقع ہوجائیں گی اور آپ کے لیے نہ رجوع جائز ہے اور نہ ہی بغیر شرعی حلالہ کے دوبارہ نکاح جائز گا۔

فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ(البقرۃ،230)

یہ سوال کہ کیااب آپ اس عورت سےدوبارہ نکاح کرسکتے ہیں یانہیں ،تواس کا جواب یہ ہے کہ بقول آپ کےچونکہ آپ نے طلاق نامہ پر دستط کرنے کےبعد 45 دن بعد رجوع کیاتھاتو بظاہریہی لگ رہاہے کہ عورت کی عدت مکمل نہیں ہوئی تھی تو آپ کا رجوع صحیح ہوگا ۔رجوع کے لیے

شرط یہ ہے کہ رجوع دوران عدت ہو خواہ عورت راضی ہو یا نہ ہو۔۔ اگر عدت گزرنے کے بعد رجوع کیا تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور طلاق ہوجاے گی۔
یادرہے کہ آپ کی تحریر سے یہ بھی معلوم ہوتاہے آپ نے ایک طلاق 2020 میں زبانی دی تھی اور ایک طلاق نامہ پر دستخط کرنے کی وجہ سے واقع ہوگئی ہے تو گویا آپ اپنی بیوی کو دوطلاق رجعی دے چکے ہیں اب آپ کے پاس صرف ایک طلاق کاحق باقی رہ گیاہے،اگر آپ نے دوبارہ طلاق دینے کی غلطی کی تو اس صورت میں آپ کو رجوع کا حق نہیں ہوگا۔

واللہ اعلم باالصواب

کتبہ: مفتی وصی الرحمن

|

مفتیان کرام: مولاناڈاکٹرحبیب الرحمٰن ،مفتی وصی الرحمن

دارالافتاء مرکز تعلیم وتحقیق اسلام آباد