سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے فارم پر کرکے بھیج دیں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

میراث کی تقسیم

|

کتاب: المیراث

|

سائل: عبید اللہ

سوال

ایک آدمی فوت ہواہے اس کے ورثامیں ایک بیوی اور ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں،اس کی وراثت میں 3317000 نقد روپے جبکہ ایک جگہ 33 مرلہ کی زمین اور دوسری جگہ 63 مرلہ زمین موجود ہے،اب یہ رقم اور زمین ان میں کس طرح تقسیم ہوگی اور کتنی کتنی ملے گئی۔

جواب

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الامین وبعد

میت: اسلم
ورثاء: ایک بیوی ایک بیٹی دو سگےبیٹے
شریعت مظہرکے روسے بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گاباقی جو وراثت بچے گی اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیاجائے گا ،ان پانچ میں سے ایک حصہ بیٹی کو اور چار حصے دونوں بیٹوں کو ملیں گے۔قرآن مجیدمیں ہے ۔

لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ(النساء،آیت 12

کل جائداد کی تقسیم کی ترتیب اس طرح ہوگی کہ کل ترکہ کو 40حصوں میں تقسیم کیا جائےگا ۔ بیوی کو 40 میں سے 5 حصے مل جائیں گے۔ بیٹوں کو28 حصے (ہر ایک بیٹے کو 14(چودہ)،14(چودہ) ملیں گے) ایک بیٹی کو40 میں سے 7 حصہ مل ملیں گے۔

تو مذکورہ اصول کے مطابق نقدی کی تقسیم اس طرح ہوگی:
بیوی: 414625
بیٹی: 580475
بیٹے: 1160950 دونوں بیٹوں کے حصے ملا کے 2321300 کل رقم بنے گی۔

اور 33 مرلہ پلاٹ کی تقسیم اس طرح ہوگی:
بیوی: 4.125 مرلہ
بیٹی: 5.775 مرلہ
بیٹے: 11.55 دونوں بیٹوں کے حصے ملا کے23.1 مرلے بنیں گے۔
اور 63 مرلہ زمین کی تقسیم اس طرح ہوگی:
بیوی: 7.875
بیٹی: 11.024
بیٹے: 22.049 دونوں بیٹو کے حصے ملا کے 44.098 مرلے بنیں گے۔

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: مفتی اسداللہ

|

مفتیان کرام: مولانا ڈاکٹر حبیب الرحمٰن،مفتی وصی الرحمٰن

دارالافتاء مرکز تعلیم وتحقیق اسلام آباد