الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الامین وبعد
میت: اسلم
ورثاء: ایک بیوی ایک بیٹی دو سگےبیٹے
شریعت مظہرکے روسے بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گاباقی جو وراثت بچے گی اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیاجائے گا ،ان پانچ میں سے ایک حصہ بیٹی کو اور چار حصے دونوں بیٹوں کو ملیں گے۔قرآن مجیدمیں ہے ۔
لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ(النساء،آیت 12
کل جائداد کی تقسیم کی ترتیب اس طرح ہوگی کہ کل ترکہ کو 40حصوں میں تقسیم کیا جائےگا ۔ بیوی کو 40 میں سے 5 حصے مل جائیں گے۔ بیٹوں کو28 حصے (ہر ایک بیٹے کو 14(چودہ)،14(چودہ) ملیں گے) ایک بیٹی کو40 میں سے 7 حصہ مل ملیں گے۔
تو مذکورہ اصول کے مطابق نقدی کی تقسیم اس طرح ہوگی:
بیوی: 414625
بیٹی: 580475
بیٹے: 1160950 دونوں بیٹوں کے حصے ملا کے 2321300 کل رقم بنے گی۔
اور 33 مرلہ پلاٹ کی تقسیم اس طرح ہوگی:
بیوی: 4.125 مرلہ
بیٹی: 5.775 مرلہ
بیٹے: 11.55 دونوں بیٹوں کے حصے ملا کے23.1 مرلے بنیں گے۔
اور 63 مرلہ زمین کی تقسیم اس طرح ہوگی:
بیوی: 7.875
بیٹی: 11.024
بیٹے: 22.049 دونوں بیٹو کے حصے ملا کے 44.098 مرلے بنیں گے۔