الحمدللہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الامین امابعد
1 سب سے پہلے جانوروں کے گوشت سے متعلق اصول یہ ہے کہ ہر گوشت حرام تصور کیا جائے گا، جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ وہ کسی حلال جانور کا گوشت ہے اور اسے شرعی ضابطے کے مطابق ذبح کیا گیا ہے۔ یعنی ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو اور جانور کی گردن کی تین یا چار رگیں کسی تیز دھار آلے کے ذریعے کاٹی گئی ہوں۔
غیرمسلم کا ذبیحہ
آپ کے سوال کاترتیب وار جواب یہ ہے۔
(۱)اگر ذبح کرنے والا ملحد ہو، یعنی نہ وہ مسلمان ہو اور نہ اہلِ کتاب (یہودی یا عیسائی)، تو اس کا ذبیحہ بالاتفاق حرام ہے۔(۲)اگر ذبح کرنے والا اہلِ کتاب (یہودی یا عیسائی) ہو، اپنے مذہب پر ایمان رکھتا ہو اور شرعی طریقے کے مطابق ذبح کرے، تو جمہور فقہاء کے نزدیک اس کا ذبیحہ حلال ہے۔(۳) اگر ذبح کرنے والا مسلمان ہو اور شرعی طریقے کے مطابق ذبح کرے، تو اس کا ذبیحہ حلال ہوگا۔
ان تینوں صورتوں کی روشنی میں تحقیق کریں کہ جس ہوٹل میں آپ کام کرتے ہیں وہاں گوشت شرعی طریقے کے مطابق ذبح کیا جاتا ہے یا نہیں۔ اگر ذبح شرعی طریقے سے کیا جاتا ہو تو وہاں کا کھانا کھانا جائز ہوگا، بصورتِ دیگر اس سے اجتناب کرنا ضروری ہوگا۔
مشینی ذبیحہ کا شرعی حکم
مشینی ذبح میں اسٹننگ کا عمل کیا جاتا ہے (اور اسٹننگ یہ ہے کہ جانور کے سر پر بجلی کا کرنٹ لگایا جاتا ہے یا ہتھوڑے سے ضرب لگائی جاتی ہے جس سے وہ ذبح سے پہلے بے ہوش ہو جاتا ہے۔) یہ عمل دو بنیادی وجوہات کی بنا پر ناجائز اور مکروہ ہے۔ پہلی وجہ یہ کہ ذبح سے پہلے جانور کو بلاضرورت تکلیف دینا شریعت میں جائز نہیں، اور اسٹننگ میں جانور کو ذہنی و جسمانی اذیت پہنچائی جاتی ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ بعض اوقات اس عمل کی شد
سے جانور ذبح سے پہلے ہی مر جاتا ہے، جیسے مرغیوں میں عموماً دیکھا گیا ہے۔ اگر جانور ذبح سے پہلے مر جائے یا مرنے کا غالب گمان ہو تو وہ “موقوذہ” یعنی ضرب سے مرنے والے جانور کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ حرام ہے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ
ترجمہ: تم پر حرام کردیا گیا ہے مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس کے ذبح کے وقت غیرُاللہ کا نام پکارا گیا ہو اور وہ جو گلا گھونٹنے سے مرے اور وہ جوبغیر دھاری دار چیز (کی چوٹ) سے مارا جائے اور جو بلندی سے گر کر مرا ہو اور جو کسی جانور کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور وہ جسے کسی درندے نے کھا لیا ہو.
اس کے علاوہ مشینی ذبیحہ میں تسمیہ کا مسئلہ بھی موجود ہے، بسم اللہ جو کہ ذبح کے وقت ایک واجب عمل ہے، یا تو سرے سے چھوٹ جاتی ہے، یا نامکمل رہتی ہے، یا پھر ایسے طریقے سے ادا کی جاتی ہے جو شرعی اعتبار سے معتبر نہیں۔لہذامروجہ مشینی ذبحہ جائز نہیں ہے۔ہاں اگر کوئی مسلمان یا اہلِ کتاب ذابح مشین کے ساتھ کھڑا ہو اور ہر بار مرغی یا جانور کو ذبح کرتے وقت اس پر بسم اللہ پڑھتا ہو، تو اس صورت میں ذبیحہ کے جائز ہونے کی گنجائش موجود ہے۔
ایسی جگہ پر کام کرنا جہاں خنزیر کا گوشت فروخت کیا جاتا ہو یا ایسے باغ میں کام کرنا جس کے پھلوں سے شراب بنائی جاتی ہو۔
- خنزیر کے گوشت سے متعلق کام کا حکم یہ ہے کہ جو شخص خنزیر کو کاٹنے، پیک کرنے، بیچنے یا ڈلیوری کرنے کا کام کرتا ہو(یعنی براہ راست اس کا تعلق خنزیر کے گوشت سے ہو) تو ایسے شخص کا یہ کام اور اس سے حاصل ہونے والی اجرت دونوں ناجائز اور حرام ہیں، کیونکہ یہ حرام چیز کی تیاری اور فروخت میں براہِ راست معاونت ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص کسی بڑے اسٹور میں ایسے شعبے میں کام کرتا ہو جس کا خنزیر سے کوئی براہِ راست تعلق نہ ہو، جیسے سیکیورٹی یا صفائی وغیرہ، تو اس کی ملازمت ناجائز نہیں، تاہم تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی جگہ سے بھی حتی الامکان اجتناب کیا جائے۔
- اسی طرح جس باغ کے پھلوں کا طے شدہ مقصد شراب کی تیاری ہو، اس میں کاشت، نگہداشت، پھل توڑنے یا فروخت میں شامل ہونا بھی ناجائز ہے، کیونکہ جب مقصد ہی حرام ہو تو اس کی تکمیل میں حصہ ڈالنا بھی حرام کام میں براہِ راست معاونت شمار ہوتی ہے اور ایسی کمائی بھی حلال نہیں۔
نوٹ:عام اشیائے خورد و نوش کے بارے میں یہ اصول ملحوظ رکھا جائے کہ اگر کسی چیز کے اجزاء (Ingredients) میں کوئی حرام یا نجس چیز شامل نہ ہو، اور کسی معتبر و مستند ادارے کی طرف سے اس پر حلال سرٹیفیکیشن (Halal Certification) بھی موجود ہو، تو ایسی اشیاء کا استعمال شرعاً جائز ہوگا۔
حوالہ جات:
وَلَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ يُذْکَرِ اسْمُ اﷲِ عَلَيْهِ وَاِنَّهُ لَفِسْقٌ. (الانعام:۶/۱۲۱)
اَلْيَوْمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّيِّبٰتُ ط وَطَعَامُ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ ص وَطَعَامُکُمْ حِلٌّ لَّهُمْ.( سورة الماىدة:۵/۵)
تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ( سورة الماىدة:۵/۲)
” حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ ( سورة الماىدة:۵/۳)”
وقوله تعالى(وتعاونوا على البر والتقوى) يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان تعالى لأن البر هو طاعات الله وقوله تعالى(ولا تعاونوا على الإثم والعدوان) نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى.”(سورة المائدة،الآية:3 ،ج:3، ص:296، ط:دار إحياء التراث العربي)
اَنَّ قَوْمًا قَالُوا لِلنَّبِیِّ اِنَّ قَوْمًا يَاْتُونَا بِاللَّحْمِ لَا نَدْرِی اَذُکِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ اَمُ لَا فَقَالَ سَمُّوا عَلَيْهِ اَنْتُمْ وَکُلُوهُ قَالَتْ وَکَانُوا حَدِيثِی عَهْدٍ بِالْکُفْرِ. (بخاری، الصحيح، 5: 2097، رقم: 5188)
“ عن أنس بن مالك قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة: عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها، والمحمولة إليه، وساقيها، وبائعها، وآكل ثمنها، والمشتري لها، والمشتراة له.” ( أبواب البيوع، باب النهي عن أن يتخذ الخمر،2 / 580، ط: دار الغرب الإسلامي )
“رجل اشترى من التاجر شيئاً، هل يلزمه السؤال أنه حلال أم حرام؟ قالوا: ينظر إن كان في بلد و زمان كان الغالب فيه هو الحلال في أسواقهم ليس على المشتري أن يسأل أنه حلال أم حرام، ويبنى الحكم على الظاهر، وإن كان الغالب هو الحرام أو كان البائع رجلاً يبيع الحلال والحرام يحتاط ويسأل أنه حلال أم حرام”.( الفتاوى الهندية (3/ 210)
وُجِدَتْ شَاةٌ مَذْبُوحَةٌ بِبَلَدٍ فِيهِ مَنْ تَحِل ذَبِيحَتُهُ وَمَنْ لاَ تَحِل ذَبِيحَتُهُ وَوَقَعَ الشَّكُّ فِي ذَابِحِهَا لاَ تَحِل إِلاَّ إِذَا غَلَبَ عَلَى أَ هْل الْبَلَدِ مَنْ تَحِل ذَبِيحَتُهُمْ (الموسوعة الفقهية الكويتية(وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية – الكو)..الأجزاء 24 – 38 : الطبعة الأولى ، مطابع دار الصفوة – مصر:جلد26/199)
علق عليه ابن عابدين ؒ: “(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل.” الدر المختار و حاشية ابن عابدين، ط: دار الفكر 6)/(4)