سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے فارم پر کرکے بھیج دیں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

میراث کی تقسیم والد کےفوت ہونے کےبعد۔

|

کتاب: المیراث

|

سائل: فضل ربی ۔دیر اپر

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ سے متعلق : ایک شخص کی زمین ہے وہ زمین اس نےکاشت کار کو حوالہ کیا ہے اور وہ کاشت کار زمین کے مالک کو آمدن دیتاہے۔کچھ عرصہ بعد مالک زمین وفات پا گیا ہے۔زمین کے مالک کے صرف تین بیٹے ہیں کاشت کار نے اس طرح کیا کہ زمین کوخود ہی تین حصوں میں تقسیم کیا ہر بیٹے کے نام سے اور آمدن بیٹوں کو دیتے رہے۔ تقسیم کے وقت مالک زمین کے بیٹے نہ اصالتاً حاضر تھے اور نہ وکالتاً یعنی کاشت کار نے اپنی طرف سے زمین کو تقسیم کیا ۔پھرکچھ عرصہ بعد کاشت کاربھی وفات ہوپاگیااور کاشت کاری اب اس کاشت کار کے بیٹے کرتے ہیں ۔لیکن مسئلہ اب یہ ہے کہ مالک زمین کے دو بیٹےشرعی طریقے سے تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور ایک بیٹایہ کہتا ہے کہ کاشت کار نے جو تقسیم کیا ہے وہ ٹھیک ہے دوبارہ تقسیم نہیں کریں گے اور اس کا جو حصہ کاشت کار نے مقرر کیا ہے دوسرے دوبیٹوں کے بنسبت زیادہ بھی ہے اور قیمتی بھی ہے ۔ آپ سے گزارش ہے کہ یہ رہنمائی کریں کہ کیاکاشت کار کی یہ تقسیم درست ہے ۔۔۔؟یادوبارہ از سرےنوں تقسیم کیاجائے گا۔۔۔؟کیا میراث کا مسئلہ زائد المیعاد ہو سکتا ہےیا نہیں؟

جواب

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الامین وبعد

یادرہے کہ باپ کے وفات کے بعد تمام ورثاء اپنے اپنے حصوں کے مالک ہونگے،کسی ایک وارث کو محروم رکھ کرمیراث کی تقسیم کسی بھی صورت میں درست نہ ہوگی ۔
صورت مسئولہ میں اگرمیت کے ورثاء یہی تین بیٹے ہیں تو ان میں یہ زمین برابر تقسیم کی جائےگی اور مالک کے وفات کے بعد کاشت کارنے خود سے جوتقسیم کیاہے اور میت کے ورثاء سے نہ اجازت لی تھی اور نہ ہی ان کو بلایاتھاتو اس صورت میں یہ تقسیم

شرعا معتبرنہیں ہوگی کیونکہ کاشت کار کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے جس سے وہ ورثاکی اجازت کے بغیر ان میں زمین تقسیم کرے ۔وراثت کی تقسیم کے لیے ولایت یا ملک شرط ہے اور اس کاشت کارکے پاس نہ تو ملکیت تھی اور نہ ہی کاشت کارکو ولایت حاصل تھی کہ وہ ورثا میں زمین تقسیم کرے ۔
لہذہ مذکورہ تقسیم درست نہیں ہے میت کے تین بیٹوں کے درمیان یہ زمین دوبارہ شرعی طریقے سے تقسیم کی جائے گی۔

حوالہ جات:

بدائع الصنائع میں ہے:

وَمِنْهَا الْمِلْكُ وَالْوِلَايَةُ فَلَا تَجُوزُ الْقِسْمَةُ بِدُونِهِمَا

(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،فَصْلٌ شَرَائِطُ جَوَازِ الْقِسْمَةِ،جلد7،صفحہ 18)

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے :

قِسْمَةُ الْفُضُولِيِّ مَوْقُوفَةٌ عَلَى الْإِجَازَةِ قَوْلًا أَوْ فِعْلًا. مَثَلًا إذَا قَسَّمَ أَحَدٌ الْمَالَ الْمُشْتَرَكَ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ فَلَا تَكُونُ الْقِسْمَةُ جَائِزَةً وَنَافِذَةً لَكِنْ لَوْ أَجَازَ أَصْحَابُهُ قَوْلًا بِأَنْ قَالُوا: أَحْسَنْتَ أَوْ تَصَرَّفُوا بِحِصَصِهِمْ الْمُفْرَزَةِ تَصَرُّفَ الْمُلَّاكِ يَعْنِي بِوَجْهٍ مِنْ لَوَازِمِ التَّمَلُّكِ كَالْبَيْعِ وَالْإِيجَارِ فَتَكُونُ الْقِسْمَةُ صَحِيحَةً وَنَافِذَةً

مجلة الأحكام العدليةالْمَادَّةُ (1126

اسی طرح زیادہ وقت کے گزرنے سے حق دعویٰ ساقط نہیں ہوتاہے جیسا کہ مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں لکھاہے :

لَا يَسْقُطُ الْحَقُّ بِتَقَادُمِ الزَّمَنِ۔

مجلة الأحكام العدليةالْمَادَّةُ الْمَادَّةُ (1674

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: مفتی وصی الرحمٰن

|

مفتیان کرام: مولانا ڈاکٹر حبیب الرحمٰن،مفتی وصی الرحمٰن

دارالافتاء مرکز تعلیم وتحقیق اسلام آباد