الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الامین وبعد
یادرہے کہ باپ کے وفات کے بعد تمام ورثاء اپنے اپنے حصوں کے مالک ہونگے،کسی ایک وارث کو محروم رکھ کرمیراث کی تقسیم کسی بھی صورت میں درست نہ ہوگی ۔
صورت مسئولہ میں اگرمیت کے ورثاء یہی تین بیٹے ہیں تو ان میں یہ زمین برابر تقسیم کی جائےگی اور مالک کے وفات کے بعد کاشت کارنے خود سے جوتقسیم کیاہے اور میت کے ورثاء سے نہ اجازت لی تھی اور نہ ہی ان کو بلایاتھاتو اس صورت میں یہ تقسیم
شرعا معتبرنہیں ہوگی کیونکہ کاشت کار کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے جس سے وہ ورثاکی اجازت کے بغیر ان میں زمین تقسیم کرے ۔وراثت کی تقسیم کے لیے ولایت یا ملک شرط ہے اور اس کاشت کارکے پاس نہ تو ملکیت تھی اور نہ ہی کاشت کارکو ولایت حاصل تھی کہ وہ ورثا میں زمین تقسیم کرے ۔
لہذہ مذکورہ تقسیم درست نہیں ہے میت کے تین بیٹوں کے درمیان یہ زمین دوبارہ شرعی طریقے سے تقسیم کی جائے گی۔
حوالہ جات:
بدائع الصنائع میں ہے:
وَمِنْهَا الْمِلْكُ وَالْوِلَايَةُ فَلَا تَجُوزُ الْقِسْمَةُ بِدُونِهِمَا
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،فَصْلٌ شَرَائِطُ جَوَازِ الْقِسْمَةِ،جلد7،صفحہ 18)
مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے :
قِسْمَةُ الْفُضُولِيِّ مَوْقُوفَةٌ عَلَى الْإِجَازَةِ قَوْلًا أَوْ فِعْلًا. مَثَلًا إذَا قَسَّمَ أَحَدٌ الْمَالَ الْمُشْتَرَكَ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ فَلَا تَكُونُ الْقِسْمَةُ جَائِزَةً وَنَافِذَةً لَكِنْ لَوْ أَجَازَ أَصْحَابُهُ قَوْلًا بِأَنْ قَالُوا: أَحْسَنْتَ أَوْ تَصَرَّفُوا بِحِصَصِهِمْ الْمُفْرَزَةِ تَصَرُّفَ الْمُلَّاكِ يَعْنِي بِوَجْهٍ مِنْ لَوَازِمِ التَّمَلُّكِ كَالْبَيْعِ وَالْإِيجَارِ فَتَكُونُ الْقِسْمَةُ صَحِيحَةً وَنَافِذَةً
مجلة الأحكام العدليةالْمَادَّةُ (1126
اسی طرح زیادہ وقت کے گزرنے سے حق دعویٰ ساقط نہیں ہوتاہے جیسا کہ مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں لکھاہے :
لَا يَسْقُطُ الْحَقُّ بِتَقَادُمِ الزَّمَنِ۔
مجلة الأحكام العدليةالْمَادَّةُ الْمَادَّةُ (1674